Saturday, 7 January 2012

قاتل جراثیم

تینتیسواں پیغام
قاتل جرا ثیم 

محترم حضرات!غفلت،سستی ، کاہلی اور بیکاری نام ہے اس قاتل جراثیم کا جو قوموں کو ترقی سے روک دیتا ہے،محکومی،ذلت، پسماندگی اور بربادی
 ان کے مقدر کا حصہ بن جاتی ہیں یہ ایسی عظیم آفت ہے جو دین و دنیا کو تباہ کردیتی ہے، اسی لئے قرآن کریم نے کسل مندوں اور بے کاروں کو ناپسند کرتے ہوئے منافقین کی صفت قرار دیا: ارشاد ہوتا ہے: بے شک منافقین اللہ سے چالبازیاں کررہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور ذکر الٰہی تو برائے نام کرتے ہیں(النساء:۱۴۲) روزہ دارو! ہم سب کے آئیڈیل نبی اکرم ﷺ کو دیکھئے، آپ ہمیشہ دعا میں سستی و کاہلی سے پناہ طلب کرتے تھے: اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے اور عاجزی و سستی سے، بخل اور بزدلی سے اور قرض کے چڑھ جانے و لوگوں کے غالب آجانے سے(بخاری) لہذا اگر آپ جنت میں بلنددرجات کے طالب ہیں تو محنت کیجئے،کام کیجئے،غفلت اور سستی کو خیر باد کہہ دیجئے، اسلئے کہ کاہلی ایسی بیماری ہے جو سگریٹ نوشی سے بڑھ کر ہے، کاہلی کے خطرات کا اندازہ کیجئے اس رپورٹ سے:ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسرلام تے ہینغ نے ۱۹۹۸ میں سروے کرایا جسمیں ۳۵ سال سے اوپر عمر کے مرنے والوں کی تعداد 6450 سامنے آئی اور یہ لوگ جسمانی نشاط سے دور رہتے اور کاہلی کا شکار تھے، جبکہ5700 افراد کی موت سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ہوئی(اخبار ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ) اخبار نے لکھا ہے کہ کاہلی اور بے کار شخص دوسروں پر بھروسے کرنے کا عادی ہوجاتا ہے، جلد تھکان اور بے صبری کا شکار رہتا ہے، ذہنی کشیدگی ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماری اسے گھیر لیتی ہے، کاہلی کی بدترین مثال ملا حظہ کریں: بخاری شریف میں اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: شیطان تمہارے سر کی گدی پر سوتے وقت تین گرہ لگادیتا ہے اور ہر گرہ پر وہ بہکاتا رہتا ہے کہ رات لمبی ہے سو جا، اگر تم بیدار ہوگئے اور اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے،وضو کرنے پر دوسری اور نماز فجر کی ادائیگی پر تیسری گرہ کھل جاتی ہے، اور وہ نشیط بن کر صبح کرتا ہے اگر ماجرا اس کے کے برعکس ہے تو وہ خبیث اور کاہل بن کر صبح کرتا ہے۔ بھایؤ!کتنی خراب شکل ہے کاہل کی کہ مسلم بندہ اذان فجر پر سوتار ہے اور شیطان اس کے کان میں پیشاب کردے، ’’استغفر اللہ‘‘
آئیے کاہلی کا علاج ڈھونڈھتے ہیں:(۱) بلند ہمتی پیدا کی جائے اسلئے کہ عقلمند شخص جانتا ہے کہ وہ بیکار نہیں پیدا کیا گیا ہے، وہ دنیا میں ملازم ہے یا تاجر(۲) نشیط لوگوں اور کاہلوں کے انجام پر نگاہ ڈالی جائے۔(۳)ہر خالی وقت کو مفید و نفع بخش چیزوں سے بھر دیا جائے۔( ۴) کھانے پینے اور سونے میں میانہ روی اختیار کرو۔ (۵) ہمیشہ محنتی مخلص اور کام کرنے والوں کے ساتھ صحبت اختیار کی جائے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سستی اور کاہلی سے دور رکھے اور اطاعت و عمل میں ہمیشہ چست و توانا بنائے۔(آمین)

جہنم کارڈ،جنت کارڈ

چوتیسواں پیغام
جہنم کارڈ،جنت کارڈ 
محترم حضرات! جہنم کارڈ، یہ لفظ ہوسکتا ہے کہ آپ پہلی بار سن رہے ہوں، جی ہاں! جہنم کارڈ،دیکھنے میں نہایت چمکدار،انتہائی خوبصورت و دلکش، لیکن اسکا مضمون آگ ہے، زہر ہے، یہ وہ کارڈ ہے جو ہمیشہ برائی لیکر آتا ہے اور اسکے حاملین کو سانپ کی مانند ڈستا و کاٹتا رہتا ، اور اخیر میں عار،ذلت اور تباہی لیکر آتاہے۔ اس سے پہلے جہنم کے کارڈ اور ان کے نام بتائے جائیں حضرت حذیفہؓ کی روایت ملاحظہ کرتے ہیں:وہ کہتے ہیں کہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ سے ہمیشہ خیراور بھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے، میں نے شر اور برائی کے متعلق سوال کیا کہ کہیں وہ مجھے آ نہ پکڑے، میں نے پوچھا :اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے، اللہ نے ہمیں خیر عطا کیا، کیا خیر کے بعدپھر برائی آئے گی؟ آپ نے کہا: ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ اس شر کے بعد بھلائی کا زمانہ آئے گا؟آپ ﷺ نے کہا ،ہاں اور اس میں دخن ہونگے، میں نے پوچھا کہ دخن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے بتایا ،ایسے لوگ ہونگے جو میرے راستے پر نہیں چلیں گے، کچھ سنتوں کا اقرار کریں گے اور کچھ کا انکار، میں نے پھر پوچھا کیا اس بھلائی کے بعد شر کا دور آئے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ،جہنم کی طرف بلانے والے دعاۃ ہونگے اور جو انکی آواز پر لبیک کہے گا، اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، میں نے پوچھااے اللہ کے رسول ﷺ!انکی صفات بیان کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہماری نسلوں سے ہونگے اور ہماری زبان بولنے والے ہونگے میں نے کہاں ایسی حالت میں اگر سامنا ہو تو میں کیا کروں؟ آپ ﷺ فرمایا مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑے رہنا، میں نے پھر پوچھا کہ اگر امام اور جماعت نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا، تمام فرقوں سے اور ان کے اماموں سے دوری برتنا اگرچہ تمہیں درخت کی جڑمیں پناہ لینی پڑے اور برابر اسی حالت میں رہنا پڑے یہاں تک کہ موت آپکڑے۔(مسند أحمد: ۲۲۹۱۴)
محترم بھائیو! جہنم کے دو کارڈ بڑ ے اہم ہیں۔ (۱)شہوت کارڈ(۲) شبہہ کارڈ۔ دونوں کارڈ کے بہت سے اقسام ہیں، جو شیطانی کمپنیاں بناتی ہیں اور دجال کے کارندے عوام میں تقسیم کرتے ہیں، جس نے توحید خالص سے اجتناب کیا اس نے جہنم کاکارڈ خرید لیا، جو مذہب اور انسان کے مابین گہرے تعلق کا انکار کرتا ہے اس نے جہنم کا کارڈ خرید لیا، جو لوگ اسلام کے اخلاقی و روحانی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں اسے کینسل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو وہ جہنم کے کارڈ ہولڈر ہیں، وہ جہنم کارڈ کے حاملین ہیں لوگ بھی جو عقل کودین پر ترجیح دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ اسلام پسماندگی کی طرف بلاتا ہے تہذیبوں کے مابین تصادم کا ذمہ دار ہے تو وہ لوگ جہنم کا کارڈ خریدچکے ہیں، جو لوگ حدود اللہ کے نفاذ پر اعتراض کرتے ہیں جیسے زانی کا رجم کرنا،چور کا ہاتھ کاٹنا،قاتل کو قتل کرنا وغیرہ اور ان پر ایمان نہیں رکھتے تو وہ جہنم کا کارڈ لے چکے ہیں، جولوگ اسلای شعائر کا تمسخر اڑاتے ہیں، داڑھی اور اسلامی پردہ کو دقیانوسیت سے تعبیر کرتے ہیں، خواتین کو برہنہ کئے جانے کی وکالت کرتے ہیں وہ جہنم کے کارڈ ہولڈر ہیں اگر اس فکر پر انکی موت ہوگئی۔ جہنم کے کارڈ اور اس کے حاملین کے اقسام او ربھی بہت ہیں، آئیے اب جنت کارڈ کا ذکر کریں: یہاں کارڈ کی صرف ایک ہی منفر د قسم ہے، انتہائی خوبصورت اور پیارا کارڈ جس کی نہ کوئی نظیر ہے اور نہ ہی مثال، اس عظیم کارڈ کا نام ہے’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ جس نے اس کے شروط کا لحاظ کیا اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا، وہ بلند درجات پر فائز ہوگیا، رب کی رحمتوں اور اس کی بیش بہا جنت کا مستحق ہو گیا، حدیث نبوی ملاحظہ کریں: اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: کہ قیامت کے روز ساری مخلوق کے سامنے اللہ میری امت سے ایک ایسے شخص کو سامنے لائے گا جس کے نامۂ اعمال کے ۹۹ رجسٹر پھیلائے جائیں گے اور ایک رجسٹر کی لمبائی تا حد نگاہ ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کیا تم ان گناہوں کا انکار کرتے ہو جو کچھ میرے فرشتوں نے نوٹ کیا؟ وہ بندہ کہے گا نہیں میرے پرور دگار، اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تمہارے پاس کوئی عذر اور نیکی ہے؟ تووہ شخص پریشاں ہوکر کہے گا: نہیں میرے رب،تو اللہ تعالیٰ فرمائے گاتمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،تو اس کا کارڈ نکالا جائے گاجس پر لکھا ہوگا’’أشہد أن لا الہٰ الا اللہ و أشہد انَّ محمدا عبدہ و رسولہ‘‘ کہا جائے گا اس شخص سے لاؤ اپنا کارڈ، وہ کہے گا: رب کائنات! یہ ایک کارڈ ۹۹ رجسٹروں کے مقابلے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اس سے کہا جائے گا : تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،ترازو میں تولا جائے گا، ایک پلڑے میں ۹۹ رجسٹر دوسرے میں صرف توحید کا ایک کارڈ ہوگا،اور آن کی آن میں رجسٹروں والا پلڑا ہلکا ہوجائے گا،اور توحید کا کارڈ بھاری پڑ جائے گا،اور اللہ کے نام کے ساتھ یقیناًکوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی۔(ترمذی، ابن حبان والحاکم)
محترم حضرات! رمضان کا یہ مقدس مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم شیطانی و دجالی بلکہ جہنمی کارڈوں کے حصول سے اپنے کو اور اہل وعیال کو بچالیں اور یہ تجدید عہد کریں کہ شریعت مطہرہ ہر چیز سے بالا تر ہے ، اللہ کا یہ دستور حیات کسی بھی حالت میں قابل تغیر نہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں جہنم اور اس سے قریب کردینے والی چیزوں سے محفوظ رکھ اور جنت کی راہ آسان بنادے۔(آمین) 

Sunday, 1 January 2012

رمضان کے انعامات

پینتیسواں پیغام
رمضان کے انعامات 
محترم حضرات!اللہ رب العزت نے رمضان کے طفیل میں اپنے روزہ دار مخلص بندوں کو ڈھیر سارے انعامات سے نوازنے کا وعدہ کیا ہے جن میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
۱۔e مغفرت کا انعام: اللہ تعالیٰ سورہ طہ آیت نمبر ۸۲ میں فرماتا ہے:’’ البتہ میں انہیں بخش دوں گا جنہوں نے توبہ کیا، ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ہدایت یاب رہے‘‘۔ حدیث میں آتا ہے:’’ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے:(بخاری،نسائی) معروف جلیل القدر صحابی ابو درداءؓ سے ان کی مرض الموت میں پوچھا گیا کو ن سی چیز آپ کو پریشان کررہی ہے، انہوں نے کہا: میرے گناہ، پھر پوچھا گیاآپکی خواہش کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اپنے پروردگار کی مغفرت۔(حلےۃ الأولیاء:۷۵۲) غور کیجئے جب صحابۂ کرام کو مغفرت کی فکر ستاتی تھی حالانکہ روزہ داروں کے لئے مغفرت کا انعام تیار ہے، لہٰذا اس انعام کو لینے کے لئے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور ماہ مکرم کا کوئی لمحہ خالی نہ جانے دیں۔
۲۔e شفاعت کا انعام: میدان حشر میں جب لوگ شدید مصیبت سے دوچار ہونگے اس وقت لوگوں کو شفاعت کی فکر لاحق ہوگی اور اخیر میں نبی ﷺ کو شفاعت کے لئے اجازت دی جائے گی اور اہل توحید کے لئے آپ ﷺ شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی شفاعت قبول فرماکر سب کو بخش دے گا،مسلمانوں کے نیک اعمال بھی بروز قیامت سفارشی بن کر آئیں گے جیسے روزہ اور قرآن بندے کے حق میں شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔
۳۔eرَیَّان( اسپیشل گیٹ) کا انعام:اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں:جنت میں’’ ریان‘‘ نام کا خصوصی گیٹ بنایا گیا ہے، جس میں روزہ داروں کے علاوہ کوئی دوسرا داخل نہ ہو سکے گا، پکارا جائے گا:روزہ داروکہاں ہو، آؤ اور اس دروازے سے داخل ہوجاؤ، ان کے داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کردیا جائے گا اور پھر کوئی داخل نہیں ہوسکے گا‘‘(بخاری)
۴۔ eخوشی اور جنت کا انعام: ابو ہریرہؓ کی روایت ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے’’ ابن آدم کا عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے، اسلئے کہ وہ روزہ میرے لئے رکھتا ہے اور میں ہی اسکا صلہ دوں گا‘‘ نبی ﷺ فرماتے ہیں: روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں، ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزوں پر خوشی کا اظہار کرے گا،(بخاری،مسلم) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان جنتیوں کو لائے گا جنہوں نے دنیا میں بڑی دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا مگر وہ صبر کرتے رہے، اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو جنت میں ایک غوطہ لگوا کر پوچھے گا کیا تمہیں کوئی پریشانی یا تکلیف ہے؟ بندے کہیں گے ،نہیں میرے رب، ہم نے کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی (مسلم)
۵۔e خوشنود ئ رب کا انعام: اللہ تعالیٰ مومن بندوں کو جنت میں داخل کرنے اور ساری نعمتیں دینے کے بعد ان سے پوچھے گا کیا تم اس سے راضی ہو؟ وہ جواب میں کہیں گے،کیوں نہیں تجھ سے راضی ہوں گے جبکہ تو نے ہمیں وہ عطا کیا ہے جو دوسروں کو نہیں ملا، اللہ تعالیٰ کہے گاکیا ان سب سے افضل چیز تمہیں نہ دے دوں؟ جنتی کہیں گے: اس سے افضل کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کہے گا، تم پر میری خوشنودی کا انعام ہے اور میں آج کے بعد تم پر کبھی بھی غضبناک نہیں ہوں گا(بخاری،مسلم)
۶۔e دیدار الٰہی کا انعام: اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم کچھ اور بھی چاہتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: میرے رب! تونے ہمارے چہروں کو منور کیا، جنت عطا کی اور جہنم سے نجات دی، اتنے میں حجاب کھل جائے گا اور وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس سے زیادہ محبوب چیز انہیں کہیں نہیں ملی ہوگی۔(مسلم)
دعا ہے کہ اللہ ہم تمام مسلمانوں کی بخشش فرماکر یہ انعامات عطا کردے (آمین)

روزہ کے احکام ومسائل (۳)


چھتیسواں پیغام
روزہ کے احکام ومسائل (۳) 
بلاعذر شرعی روزوں کی قضا میں تاخیر: رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء میں بلا عذر شرعی تاخیر درست نہیں ، کیونکہ یہ ایک قرض ہے اوراستطاعت کے باوجود اس کی ادائیگی اگلے رمضان کے آنے سے پہلے نہیں ہوتی ہے توایسے لوگ اللہ کے یہاں مجرم ہیں ، روزوں کی قضا جس قدر جلدی ہو، کرلینی چاہیے اور اگردوسرا رمضان آگیا اور قضانہیں کرسکے توایسے شخص پر توبہ، اور قضاء کے ساتھ ہرروزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا بھی واجب ہے۔ لیکن اگر کسی عذر کی بناء پر روزوں کی قضاء نہ کرسکا تواس پر صرف قضا واجب ہے ۔
تراویح میں قرآن ٹھرٹہر کر پڑھنا: تراویح میں عموما حفاظ کرام قرآن بہت تیزی سے اورجلدی جلدی پڑھتے ہیں اور یعلمون تعلمون کے سوا کچھ سمجھ میں نہیں آتا، یہ نہایت غلط بات ہے قرآن جن وانس کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، اس کے معانی ومطالب کو سمجھنا بھی عبادت ہے ، اس لئے قرآن کو ٹھہرٹھہر کر پڑھنے کا حکم دیا گیاہے، قرآن کو ترتیل کے ساتھ اورٹھہر ٹھہر کر پڑھئے (مزمل: ۴۰) ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایک آیت کو الگ الگ کرکے پڑھتے، الحمدللہ رب العالمین کہتے پھرٹھہرجاتے، پھر الرحمن الرحیم کہتے پھر ٹھہر جاتے (ترمذی) آپ ﷺ نے قرآن کو خوبصورت لہجے میں پڑھنے کاحکم دیا ہے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو (احمد) معلوم ہوا کہ تیزی سے قرآن کے پڑھنے میں اس کا مقصد فوت ہوجائے گا ، لہٰذا اطمینان کے ساتھ اور شیریں آواز میں قرآن پڑھنا چاہیے۔ 
تراویح میں نابالغ کی امامت: نابالغ بچے کی امامت درست ہے ، عمروبن سلمہؓ کی روایت ہے کہ جب میرے والد اسلام لائے توقوم میں آکر انہوں نے نماز کے احکام بیان کئے اور کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے جب نماز کا وقت آئے توتم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سے قرآن سب سے زیادہ یاد رکھنے والا ہووہ امامت کرے (بخاری) چنانچہ لوگوں نے دیکھا کہ مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ لوگوں نے مجھے امامت کے لئے آگے بڑھایا حالانکہ میں اس وقت چھ یا سات سال کا تھا اورمجھ پر ایک چھوٹی سی چادر تھی، میں جب سجدہ کرتا توچادر سترسے الگ ہوجاتی تھی اس پر قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: آپ لوگ اپنے امام کی شرمگاہ کو ڈھانکنے کے لئے انتظام کیوں نہیں کردیتے؟ معلوم ہوا امامت کے لئے بلوغت شرط نہیں۔
جمعۃ الوداع منانے کا حکم: قرآن وسنت میں جمعۃ الوداع کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، لوگو ں نے رواج بنایا ہے اس سے بچ کر زیادہ سے زیادہ وقت عبادت ، تلاوت، استغفار اور صدقہ وخیر ات میں صرف کرنا چاہیے۔
صدقۃ الفطر: عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھوٹے بڑے اور آزاد وغلام جن کے کھانے کے تم ذمہ دار ہو ان کی جانب سے صدقۃ الفطر نکالنے کا حکم دیا (بیہقی) ایک صاع تقریبا ڈھائی کلو صدقہ غلہ کی شکل میں نکالا جائے گا، یہ فقر اء ومساکین کا حق ہے، ان کے لئے کھانے کا انتظام ہے، تاکہ وہ عید کے روز ادھر ادھر چکر لگانے سے بچ جائیں۔ عیدکی نماز سے قبل اس کی ادائیگی ضروری ہے۔ (مستفاداز’’فتاوی رمضان‘‘: ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی حفظہ اللہ)

صلہ رحمی

سینتیسواں پیغام
صلہ رحمی 
محترم حضرات!رمضان کا یہ مقدس مہینہ ہمیں صلہ رحمی کی سخت تاکید کرتا ہے، آئیے صلہ رحمی کا مفہوم دیکھتے ہیں: اپنے اقرباء و رشتہ داروں کے ساتھ ہر طرح کی بھلائی و احسان کا معاملہ کرنا اور ان کی مصیبتوں کو دور کرنے میں مدد دینا اور قطع رحمی کہتے ہیں:اپنے اقرباء و اعزہ کے ساتھ زیادتی کرنا اور ان سے دوری برتنا۔ صلہ رحمی واجب ہے اور قطع رحمی گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہے۔
صلہ رحمی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور اللہ کی عبادت کرو، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو، رشتہ داروں کے ساتھ، یتیموں ،مسکینوں، قرابت دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں،پہلو کے ساتھی، مسافر اور غلام و کنیزوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، یقیناًاللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ (النساء ۳۶) ام المومنین عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ قرابت داری عرش سے معلق ہوکر کہتی ہے جس نے مجھ کو جوڑا اللہ اسے جوڑے رکھے، جس نے مجھ سے ناطہ توڑا اللہ اس سے تعلق ختم کرلے:(بخاری، مسلم)
’’ارحام‘‘ یعنی قرابت داروں میں آپ کی اولاد، اولاد کی اولاد،باپ کی اولاد،دادا کی اولاد،چچا ،خالہ، پھوپھی اور ان کی اولادیں شامل ہیں جن کے ساتھ صلہ رحمی ہونی چاہئے، صلہ رحمی کے مستحق قریب میں رہنے والے اقرباء زیادہ ہیں دور رہنے والوں کی بہ نسبت۔ صلہ رحمی کن چیزوں کے ذریعہ ہو سکتی ہے: دیکھئے (۱)ایک دوسرے کے گھروں کی زیارت (۲) دعوت لینا و میزبانی کا شرف حاصل کرنا (۳) ملاقات کے وقت یا ٹیلی فون کے ذریعے ایک دوسرے کی مزاج پرسی اور حالات معلوم کرنا نیز سلام کہتے رہنا(۴) باہمی احترام(۵) خوشی اور غمی کے مواقع پر شرکت (۶) مریضوں کی عیادت اور جنازوں میں شرکت(۷) غریب رشتہ دار پر مالی صدقہ کرنا دوہرا اجر ہے(۸) ایک دوسرے کی آواز پر لبیک کہنا اور عذر و بہانہ سے دور رہنا(۹) دلوں کو کینہ کپٹ سے سلامت رکھنا(۱۰) ایک دوسرے کے لئے دعائے خیر کرتے رہنا۔
در حقیقت صلہ رحمی یہ ہے جو کٹے ہوئے ہوں ان کو جوڑا جائے، اور یہ صلہ رحمی انسان کے جنت میں داخلے کی راہ ہموار کرتی ہے: اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں:’’لوگو !سلام پھیلاؤ، بھوکوں کو کھلاؤ، قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو اور رات میں نمازیں پڑھو جب لوگ سورہے ہوں، ایسا کرنے پر جنت میں بآسانی داخل ہوجاؤگے: (ترمذی،و صححہ الالبانی) جو لوگ قطع رحمی کا ارتکاب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہی سزادے دیتا ہے، اُن کا کوئی پر سان حال نظر نہیں آتا اور وہ گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیتے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ تقریبات کے مواقع پر اپنے رشتہ داروں کو ہرگز نہ بھولیں، میراث کی تقسیم جلدی ہو، اپنے بچوں کو رشتہ داروں سے متعارف کرایا جائے، ماہانہ خاندانی نشستیں ہوں، ایک دوسرے کی سر زنش سے بچا جائے اور باہمی بے تکلفی ہو، اگر ان طریقوں کو ہم نے اپنالیا تو ان شاء اللہ قطع رحمی دم توڑ جائے گی، شیطان رسوا ہوجائے گا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر موڑ پر صلہ رحمی کی توفیق دے اور قطع رحمی سے بچائے۔ (آمین)

Saturday, 17 September 2011

استغفار پر مہر لگادیں

اڑتیسواں پیغام
استغفار پر مہر لگادیں 
محترم حضرات!ابو ہریرہؓ ایک معروف جلیل القدر صحابی گزرے ہیں، سب سے زیادہ حدیثیں انہی کے واسطے منقول ہیں، ایک مرتبہ وہ رمضان کی فضیلت بیان کررہے تھے کہ اس ماہ ہر شخص بخش دیا جاتا ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا‘‘ ان کے ساتھیوں نے پوچھا: ابو ہریرہ یہ انکار کرنے والے کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، جس نے اللہ سے مغفرت طلب نہیں کی۔
روزہ دارو! استغفار کہتے ہیں، بخشش چاہنا، خطاؤں کی پردہ پوشی اور اسکے شر سے راحت طلب کرناآپ دیکھیں استغفار پر تمام نیک اعمال کا خاتمہ ہوتا ہے، ہم نماز کو، تراویح کو، حج کو اور تمام دینی مجالس کو اللہ کی مغفرت طلب کرتے ہوئے ختم کرتے ہیں، یہ استغفار ہی ہے جس کے ذریعے اللہ بندوں کے درجات بلند فرماتا ہے، اور بڑی سے بڑی سزاؤں کا نفاذ روک دیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ جب دعوت وجہاد سے فارغ ہوئے اور لوگ اسلام میں فوج درفوج داخل ہونے لگے اس وقت حکم ہوا کہ آپ ﷺ استغفار کریں، لہٰذا بندے کے ہر نیک عمل کا اختتام استغفار پر ہی ہونا چاہئے، اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ماہ رمضان کا اختتام بھی استغفار کے ذریعے ہو، جو ہمارے روزوں کی تکمیل وقبولیت کا واحد ذریعہ ہے۔
ابو ہریرہؓ کا کہنا ہے کہ غیبت روزوں کو پھاڑ دیتی ہے، اور استغفار اس پر پیوند لگاتا ہے، خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے تمام شہرکے گورنروں کو لکھا کہ’’ماہ رمضان کا اختتام استغفار اور صدقۂ فطر پر ہو‘‘۔
روزہ دارو! استغفار کے بے شمار فضائل ہیں، اس سے جہاں گناہ معاف ہوتے ہیں، وہیں استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ بارش کا نزول فرماتا ہے، مال و دولت کے ساتھ اولاد جیسی عظیم نعمت بھی عطا کرتا ہے: اللہ فرماتا ہے:’’پس میں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو وہ نہایت بخشنے والا ہے، آسمان سے بارش کی بدلیاں برسائے گا، تمہیں مال و اولاد سے نوازے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں بنا دے گا‘‘( نوح: ۱۰۔۱۲ ) ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں: خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا نامۂ اعمال کثرت استغفار سے بھرا ہوگا ۔ روزہ دارو! استغفار کے الفاظ کئی طرح سے ہوسکتے ہیں لیکن سید الاستغفار جسے نبی ﷺ صحابہ کو سکھایا وہ ہر طرح سے جامع ہے’’ اللّٰہم أنتَ رَبِّی لا الٰہَ الَّا أنت خَلقْتَنِی و أنَا عَبْدُکَ وانا علی عَھْدِکَ ووعدک ماسْْتَطعْتُ، أعوذ بک من شرِّما صنعتُ، أبوءُ لک بنعمتک علیَّ واَبوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي فاِ نَّہُ لا ےَغْفِرُ الذُّنُوبَ الاَّ أنتَ جس نے یہ دعا صبح پڑھی اور شام سے پہلے انتقال ہوگیا وہ جنت میں داخل ہوگیا، جس نے شام کے وقت پڑھی اور صبح سے پہلے اس کا انتقال کرگیا تو وہ جنت میں داخل ہوگیاَ (ترمذي)دوسری اور آسان دعا جس کے پڑھنے پر اللہ اسے بخش دیتا ہے: أسْتَغْفِرُ اللّٰہُ الَّذِی لا الٰہَ الا ہوالحَیُّ القَیُّومُ و أتوبُ الیہ (ابو داؤد) اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم تمام مسلمانوں کو کثرت کے ساتھ استغفار کی توفیق دے اور اپنے روزوں کا خاتمہ اسی پر کریں۔(آمین)

الوداع ماہ رمضان

انتالیسواں پیغام
الوداع ماہ رمضان! 
بہنو اور بھائیو! سورج روزانہ مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوب جاتا ہے، اسی سے ماہ و سال بنتے ہیں، اسی طرح رمضان کا بابرکت مہینہ ہم پر سایہ فگن ہوا اور بڑی تیزی کے ساتھ رخصت ہوا چاہتا ہے، عید سر پر ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو عید الفطر کی مبارکباد دی جائے یا ماہ مکرم کی جدائی پر آپ سے تعزیت کی جائے یقیناًدل غمزدہ ہے،آنکھوں میں آنسوہیں غم کے، جدائی کے۔ کسی کو خبر نہیں کہ رحمتوں کا موسم آئندہ نصیب ہوگا یا نہیں، میرے بھائیو! وداعی کے وقت ایک فریضہ ہم پر عائد ہوتا ہے:کہ عید الفطر کی نماز سے قبل ہر چھوٹے بڑے ،مرد و عورت مسلمان صدقۂ فطر ادا کریں، اس سے غفلت میں نہیں پڑنا چاہئے ورنہ عنداللہ سخت گنہگار ہونگے، اس کا مقصد حدیث میں بتایا گیا ہے کہ روزہ دار کے لغو و فحش باتوں(کے گناہ) سے تطہیر اور صفائی ہوجاتی ہے نیز مسکینوں کی خوراک کا انتظام ہوجاتا ہے،(ابو داؤد) گھر کے ہر فرد کی طرف سے ایک ایک صاع(تقریباً ڈھائی کلو)جو،کھجور،پنیر،چاول،گیہوں یا کشمش کا نکالا جانا ضروری ہے، صدقۂ فطر کی ادائیگی عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی کی جاسکتی ہے، بعض صحابۂ کرام ایسا کرتے تھے، لیکن اس کا اصل وقت عید کی صبح سے نماز عید سے قبل تک ہے۔ مجبوری کی صورت میں صدقہ کی رقم بھی ادا کی جاسکتی ہے۔
ان شاء اللہ صدقۂ فطر کی ادائیگی سے ہمارے روزوں میں جو نقص ہوا ہوگا اللہ تعالیٰ معاف کردے گا، لیکن غور کیجئے کہ یہ مبارک ماہ جو ہم سے رخصت ہورہا ہے، کچھ پیغام دے کے جارہا ہے، اسکی پابندی ہی ہمیں کامیابی دلائے گی۔
۱۔ آپ نے رمضان میں نیکیوں کی جو مضبوط رسی بنائی ہے اسکو مت توڑئے گا، مکہ میں ریطہ بنت سعد نامی پاگل عورت تھی وہ پورے دن سوت کاتتی تھی اور شام میں توڑ دیتی تھی، قرآن میں وارد ہے:’’ اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا‘‘(النحل:۹۲) آپ نے اللہ سے جو عہد و پیمان کیا ہے اس کی پاسداری مرتے دم تک کرنی ہوگی۔
۲۔ رمضان کے بعد شیطان آزاد ہوجائیں گے لیکن آپ اسکے مکر سے اپنے کو محفوظ رکھئے گا، اسلئے کہ شیطان چاہتا ہے کہ اللہ کے یہ بندے ابلیس کی راہ پر چل کر جہنم خرید لیں، جب کہ آپ نے جنت خرید لی ہے، لہذا آپ دینی ذمہ داریوں کو ہرگز نہ بھولیں گے۔
۳۔ نمازوں کی پابندی جس طرح ہم نے رمضان میں کی ہے اسی انداز میں بقیہ مہینوں میں بھی کرنی ہوگی،اسلئے کہ نماز ہماری زندگی، قبر اور پل صراط میں نور کی طرح روشن رہیگا ان شاء اللہ، یاد رہے کہ نماز ہی ہمارے مال اور اولاد میں برکت کا سبب ہے۔
۴۔ رمضان کے بعد قرآن کریم سے بے اعتنائی نہیں ہونی چاہئے،خبردار! ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں جو صرف رمضان میں قرآن پڑھتے ہیں اور بقیہ ایام میں چھوڑے رہتے ہیں قرآن میں بزبان رسول اللہ ﷺ واردہوتا ہے’’اے میرے پروردگار! میری امت نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘(الفرقان:۳) نبی ﷺ بروز قیامت تارک قرآن کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے، اللہ اکبر! لہذا ہمیں چاہئے کہ یومیہ قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کرنے عادت ڈالیں۔
۵۔ کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہیں،گھر سے نکلتے وقت،داخل ہوتے وقت، صبح و شام کی دعائیں وغیرہ کی پابندی کریں۔
۶۔ رمضان کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ ہم نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کہ جب بھی ہم معصیت کے متعلق سوچیں تو نیک ساتھی اس گناہ سے روک دے۔
۷۔ رمضان کے روزے کس کے قبول ہوئے اور کس کے نہیں؟ آپ خود فیصلہ کرسکتے ہیں: عمل کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ اطاعت کا تسلسل ہو، لہذا آپ کوشش کریں کہ رمضان میں جو تبدیلیاں آپکی زندگی میں ہوئیں ان کو اور صیقل کیجئے اور شیطان کوہر موڑ پر شکست دیجئے۔
۸۔ رمضان کا اصل مقصد ہماری زندگیوں میں تقویٰ کا حصول ہے، اگر یہ تقویٰ محض رمضان کیلئے تھا تو سب بیکار ہے، اس کا اثر پوری زندگی میں باقی رہنا چاہئے۔
۹۔ ہم نے اپنی زبانوں کا روزہ رکھا،غیبت،چغلی،بیہودگی سے اپنے کو بچائے رکھا تو بقیہ ایام میں بھی اسکی حفاظت کرنی ہوگی، اپنے کانوں کو موسیقی اور برائیوں سے بچائے رکھا،آنکھوں کو روزہ رکھوایاتو یہ روزہ عمر بھر رکھوانا چاہئے۔
۱۰۔ آپ شوال کے چھ روزے ہرگز نہ بھولیں گے۔ ابو ایوب انصاریؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے ساتھ شوال کے چھ روزے رکھے، اس نے گویا پورے سال کا روزہ رکھا(مسلم) ماہ رمضان دس مہینوں کے برابر ہوا، ایک نیکی کا دس گنا اجر ہے، اور شوال کے چھ روزوں کا دو ماہ ہوا،اسطرح بارہ مہینے پورے ہوئے، یہ اللہ کا فضل عظیم ہے،آپ عید کے پورے شوال میں کسی بھی طرح روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے ان پیغامات کی حفاظت کی توفیق بخشے۔آمین۔