Saturday, 7 January 2012

کیا آپ نبی ﷺ سے واقعی محبت کرتے ہیں؟

اکتیسواں پیغام
کیا آپ نبی ﷺ سے واقعی محبت کرتے ہیں؟


محترم حضرات! ماہ رمضان جیسا مبارک اور مقدس مہینہ ہمیں نبی ﷺ کی بعثت کے سبب عطا ہوا، ہم مسلمان اپنے نبی محمد ﷺ سے بے پناہ عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں، آپکی سنتوں کے مطابق صوم و صلاۃ اور دوسرے معاملات انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں، حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا ، اور کہا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے کہا تم نے قیامت کے لئے تیاری کیا کی ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے کوئی زیادہ عمل نہیں کیا سوائے اسکے کہ میں اللہ و اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہوں ، نبی ﷺ نے یہ سن کر جواب دیا، المرءُ مع من احب‘‘ آدمی کا انجام اس کے محبوب کے ساتھ ہی ہوگا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے اس قول سے ہم بیحد خوش ہوئے اور میں خود رسول اللہ ﷺ ،ابو بکرؓ و عمرؓ سے بہت محبت کرتا ہوں اور اللہ سے امید کرتا ہوں کہ میرا حشر انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا اگر چہ میں نے ان کے جیسا عمل نہیں کیا۔ (بخاری ،مسلم)
سوال پیدا ہوتا ہے کیا واقعی آپ اپنے پیارے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں یا محض دعوی اور دکھاواہے؟ کیا ہم اور آپ خواہشمند ہیں کہ ہمارا اور آپ کا حشر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ہو اور بروز قیامت اپنے آپ کو نبی ﷺ کے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تو آئیے ان تین علامتوں کو اپنے پیدا کریں۔
۱۔ نبی ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت بجا لائیں اور جن چیزوں سے روکا ہے فوراً رک جائیں، قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے: اے نبی ﷺ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تمہیں محبوب بنالے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا(آل عمران: ۳۱) بخاری شریف میں ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا، صحابہ نے پوچھا کو ن منکر ہوگا یارسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی گویا اس نے انکار کیا۔
۲۔ غیرت مندی کا ثبوت دیجئے، جس طرح محبت کرنے والا اپنے محبوب کیلئے غیر تمند ہوتا ہے، آپ کوبھی غیرت آنی چاہئے جب آپ کے سامنے اللہ کی حرمتیں پامال کی جارہی ہوں، سنتوں سے کھلواڑ اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہو، آپ کا دل پھڑک اٹھنا چاہئے، ایسی صورت میں پہلے اپنے نفس کی اصلاح پھر اہل و عیال ، پڑوس،اقرباء کی اصلاح کرنی ہوگی، دعوتی وسائل کا استعمال کیجئے، گفتگو کے ذریعے، اسلامی کیسٹوں،دینی کتابوں،پمفلٹوں اور ہینڈ بلوں کی نشر و اشاعت اور ایس ایم ایس و ای میل کے ذریعے ،جو ان شاء اللہ نہایت مفید ثابت ہوں گے۔
۳۔ نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ کا کثرت سے مطالعہ ہونا چاہئے، اس لئے کہ اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو ہمارا دعوئ محبت دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔’’الرحیق المختوم‘‘ رحمۃ اللعالمین‘‘ سیرۃ النبی ﷺ اور محسن انسانیت، جیسی کتابیں ہمارے اور ہمارے اہل و عیال کے مطالعے میں ہمیشہ رہنی چاہئے۔
اللہ سے دعاء ہے کہ ہمارے اندر یہ علامتیں پیدا کردے جو نبی ﷺ سے حقیقی محبت کا ذریعہ بنیں ۔ (آمین)

توبہ کا مہینہ

بتیسواں پیغام
توبہ کا مہینہ 
محترم حضرات!توبہ عمر کا وظیفہ ہے اور بندے کا آغاز و انجام بھی، ہم مسلمانوں کو توبہ کی شدید ضرورت ہے، صبح و شام گناہوں میں لت پت رہنے والا انسانی دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر توبہ ہی واحد ذریعہ ہے جس کے استعمال سے دل صیقل اور منور ہوجاتا ہے۔
روزہ دارو! توبہ کہتے ہیں: گناہوں کی برائی جانتے ہوئے ترک کردینا، گناہ کے کام پر شرمندہ ہونا اور آئندہ نہ کرنے کاعزم کرنا، توبہ کرنے والے بندوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، توبہ کی قبولیت اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک انسان کی سانسیں اکھڑنے نہ لگیں یا سورج مغرب سے طلوع ہونا شروع ہوجائے، اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، یہ محض اللہ کا فضل اور احسان ہے اپنے بندوں کے ساتھ، کہ گناہ کتنے بڑے ہی کیوں نہ ہوں، وہ توبہ کرنے پر قبول ضرور کرے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ اور اس کی اطاعت میں مخلص ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر کوئی عذاب آپڑے اور تمہارا کوئی مددگار نہ رہے۔ (الزمر:۵۴)۔ دوسری جگہ فرماتا ہے: وہی بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے، ان کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور وہ باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (الشوریٰ:۲۵)۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مایوسی سے منع کیا ہے، فرماتا ہے: اے نبی! کہہ دیجئے میرے بندوں سے جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ (الزمر:۵۳)۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو توبہ یا اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگیا، اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا۔لہٰذا توبہ کرتے رہنا چاہئے،بندوں کے حقوق کے علاوہ تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ توبہ کے ذریعہ معاف کردیتا ہے، مگر حقوق العباد صرف اسی صورت میں معاف ہوسکتے ہیں جب بندہ خود معاف کرے، توبہ انسان کو خوشیاں عطا کرتا ہے، تواضع اور انکساری آجاتی ہے، اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے، آئیے توبہ کے متعلق بعض غلطیاں ملاحظہ کریں، جن سے اجتناب بے حد ضروری ہے۔
توبہ میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے کہ گناہ پر گناہ کرتے جائیں اور عمر کے آخری پڑاؤ پر توبہ کرلیں گے، جب کہ آپ کو خبر نہیں کہ پروانۂ اجل کب آپہونچے۔ وہ گناہ جو بندہ کر بیٹھتا ہے لیکن اسے خبر نہیں ہوتی،اس سے غفلت نہیں ہونی چاہئے، بلکہ دعا کرنی چاہئے: ’’اللّٰہُمَّ إنِّی أعُوذُبِکَ أنْ اأشْرِکَ بِکَ وَأنَا أعْلَمُ وأسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا أعْلَم‘‘ (بخاری: فی الأدب المفرد)۔ 
یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، خوب گناہ کرنا چاہئے، انتہائی غلط سوچ ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت سزادے گا۔ توبہ اس ڈر سے آدمی ترک کردے کہ اس کا منصب چلا جائے گایا لوگ لعن طعن کریں گے ، غلط ہے، عارضی بیماری یا پریشانی میں توبہ کرنا اور پھر اسی کی طرف لوٹ جانا، جھوٹوں کی توبہ کہلاتی ہے۔ اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔ انسان اپنے آپ کو اس دھوکے سے محفوظ رکھے کہ اللہ گنہگاروں کو مہلت دیتا ہے اور وہ گناہ پر گناہ کرتے جاتے ہیں۔ توبہ کے وقت اللہ کی رحمت اور قبولیت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق دے ۔ آمین۔

قاتل جراثیم

تینتیسواں پیغام
قاتل جرا ثیم 

محترم حضرات!غفلت،سستی ، کاہلی اور بیکاری نام ہے اس قاتل جراثیم کا جو قوموں کو ترقی سے روک دیتا ہے،محکومی،ذلت، پسماندگی اور بربادی
 ان کے مقدر کا حصہ بن جاتی ہیں یہ ایسی عظیم آفت ہے جو دین و دنیا کو تباہ کردیتی ہے، اسی لئے قرآن کریم نے کسل مندوں اور بے کاروں کو ناپسند کرتے ہوئے منافقین کی صفت قرار دیا: ارشاد ہوتا ہے: بے شک منافقین اللہ سے چالبازیاں کررہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور ذکر الٰہی تو برائے نام کرتے ہیں(النساء:۱۴۲) روزہ دارو! ہم سب کے آئیڈیل نبی اکرم ﷺ کو دیکھئے، آپ ہمیشہ دعا میں سستی و کاہلی سے پناہ طلب کرتے تھے: اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے اور عاجزی و سستی سے، بخل اور بزدلی سے اور قرض کے چڑھ جانے و لوگوں کے غالب آجانے سے(بخاری) لہذا اگر آپ جنت میں بلنددرجات کے طالب ہیں تو محنت کیجئے،کام کیجئے،غفلت اور سستی کو خیر باد کہہ دیجئے، اسلئے کہ کاہلی ایسی بیماری ہے جو سگریٹ نوشی سے بڑھ کر ہے، کاہلی کے خطرات کا اندازہ کیجئے اس رپورٹ سے:ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسرلام تے ہینغ نے ۱۹۹۸ میں سروے کرایا جسمیں ۳۵ سال سے اوپر عمر کے مرنے والوں کی تعداد 6450 سامنے آئی اور یہ لوگ جسمانی نشاط سے دور رہتے اور کاہلی کا شکار تھے، جبکہ5700 افراد کی موت سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ہوئی(اخبار ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ) اخبار نے لکھا ہے کہ کاہلی اور بے کار شخص دوسروں پر بھروسے کرنے کا عادی ہوجاتا ہے، جلد تھکان اور بے صبری کا شکار رہتا ہے، ذہنی کشیدگی ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماری اسے گھیر لیتی ہے، کاہلی کی بدترین مثال ملا حظہ کریں: بخاری شریف میں اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: شیطان تمہارے سر کی گدی پر سوتے وقت تین گرہ لگادیتا ہے اور ہر گرہ پر وہ بہکاتا رہتا ہے کہ رات لمبی ہے سو جا، اگر تم بیدار ہوگئے اور اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے،وضو کرنے پر دوسری اور نماز فجر کی ادائیگی پر تیسری گرہ کھل جاتی ہے، اور وہ نشیط بن کر صبح کرتا ہے اگر ماجرا اس کے کے برعکس ہے تو وہ خبیث اور کاہل بن کر صبح کرتا ہے۔ بھایؤ!کتنی خراب شکل ہے کاہل کی کہ مسلم بندہ اذان فجر پر سوتار ہے اور شیطان اس کے کان میں پیشاب کردے، ’’استغفر اللہ‘‘
آئیے کاہلی کا علاج ڈھونڈھتے ہیں:(۱) بلند ہمتی پیدا کی جائے اسلئے کہ عقلمند شخص جانتا ہے کہ وہ بیکار نہیں پیدا کیا گیا ہے، وہ دنیا میں ملازم ہے یا تاجر(۲) نشیط لوگوں اور کاہلوں کے انجام پر نگاہ ڈالی جائے۔(۳)ہر خالی وقت کو مفید و نفع بخش چیزوں سے بھر دیا جائے۔( ۴) کھانے پینے اور سونے میں میانہ روی اختیار کرو۔ (۵) ہمیشہ محنتی مخلص اور کام کرنے والوں کے ساتھ صحبت اختیار کی جائے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سستی اور کاہلی سے دور رکھے اور اطاعت و عمل میں ہمیشہ چست و توانا بنائے۔(آمین)

جہنم کارڈ،جنت کارڈ

چوتیسواں پیغام
جہنم کارڈ،جنت کارڈ 
محترم حضرات! جہنم کارڈ، یہ لفظ ہوسکتا ہے کہ آپ پہلی بار سن رہے ہوں، جی ہاں! جہنم کارڈ،دیکھنے میں نہایت چمکدار،انتہائی خوبصورت و دلکش، لیکن اسکا مضمون آگ ہے، زہر ہے، یہ وہ کارڈ ہے جو ہمیشہ برائی لیکر آتا ہے اور اسکے حاملین کو سانپ کی مانند ڈستا و کاٹتا رہتا ، اور اخیر میں عار،ذلت اور تباہی لیکر آتاہے۔ اس سے پہلے جہنم کے کارڈ اور ان کے نام بتائے جائیں حضرت حذیفہؓ کی روایت ملاحظہ کرتے ہیں:وہ کہتے ہیں کہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ سے ہمیشہ خیراور بھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے، میں نے شر اور برائی کے متعلق سوال کیا کہ کہیں وہ مجھے آ نہ پکڑے، میں نے پوچھا :اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے، اللہ نے ہمیں خیر عطا کیا، کیا خیر کے بعدپھر برائی آئے گی؟ آپ نے کہا: ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ اس شر کے بعد بھلائی کا زمانہ آئے گا؟آپ ﷺ نے کہا ،ہاں اور اس میں دخن ہونگے، میں نے پوچھا کہ دخن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے بتایا ،ایسے لوگ ہونگے جو میرے راستے پر نہیں چلیں گے، کچھ سنتوں کا اقرار کریں گے اور کچھ کا انکار، میں نے پھر پوچھا کیا اس بھلائی کے بعد شر کا دور آئے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ،جہنم کی طرف بلانے والے دعاۃ ہونگے اور جو انکی آواز پر لبیک کہے گا، اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، میں نے پوچھااے اللہ کے رسول ﷺ!انکی صفات بیان کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہماری نسلوں سے ہونگے اور ہماری زبان بولنے والے ہونگے میں نے کہاں ایسی حالت میں اگر سامنا ہو تو میں کیا کروں؟ آپ ﷺ فرمایا مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑے رہنا، میں نے پھر پوچھا کہ اگر امام اور جماعت نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا، تمام فرقوں سے اور ان کے اماموں سے دوری برتنا اگرچہ تمہیں درخت کی جڑمیں پناہ لینی پڑے اور برابر اسی حالت میں رہنا پڑے یہاں تک کہ موت آپکڑے۔(مسند أحمد: ۲۲۹۱۴)
محترم بھائیو! جہنم کے دو کارڈ بڑ ے اہم ہیں۔ (۱)شہوت کارڈ(۲) شبہہ کارڈ۔ دونوں کارڈ کے بہت سے اقسام ہیں، جو شیطانی کمپنیاں بناتی ہیں اور دجال کے کارندے عوام میں تقسیم کرتے ہیں، جس نے توحید خالص سے اجتناب کیا اس نے جہنم کاکارڈ خرید لیا، جو مذہب اور انسان کے مابین گہرے تعلق کا انکار کرتا ہے اس نے جہنم کا کارڈ خرید لیا، جو لوگ اسلام کے اخلاقی و روحانی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں اسے کینسل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو وہ جہنم کے کارڈ ہولڈر ہیں، وہ جہنم کارڈ کے حاملین ہیں لوگ بھی جو عقل کودین پر ترجیح دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ اسلام پسماندگی کی طرف بلاتا ہے تہذیبوں کے مابین تصادم کا ذمہ دار ہے تو وہ لوگ جہنم کا کارڈ خریدچکے ہیں، جو لوگ حدود اللہ کے نفاذ پر اعتراض کرتے ہیں جیسے زانی کا رجم کرنا،چور کا ہاتھ کاٹنا،قاتل کو قتل کرنا وغیرہ اور ان پر ایمان نہیں رکھتے تو وہ جہنم کا کارڈ لے چکے ہیں، جولوگ اسلای شعائر کا تمسخر اڑاتے ہیں، داڑھی اور اسلامی پردہ کو دقیانوسیت سے تعبیر کرتے ہیں، خواتین کو برہنہ کئے جانے کی وکالت کرتے ہیں وہ جہنم کے کارڈ ہولڈر ہیں اگر اس فکر پر انکی موت ہوگئی۔ جہنم کے کارڈ اور اس کے حاملین کے اقسام او ربھی بہت ہیں، آئیے اب جنت کارڈ کا ذکر کریں: یہاں کارڈ کی صرف ایک ہی منفر د قسم ہے، انتہائی خوبصورت اور پیارا کارڈ جس کی نہ کوئی نظیر ہے اور نہ ہی مثال، اس عظیم کارڈ کا نام ہے’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ جس نے اس کے شروط کا لحاظ کیا اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا، وہ بلند درجات پر فائز ہوگیا، رب کی رحمتوں اور اس کی بیش بہا جنت کا مستحق ہو گیا، حدیث نبوی ملاحظہ کریں: اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: کہ قیامت کے روز ساری مخلوق کے سامنے اللہ میری امت سے ایک ایسے شخص کو سامنے لائے گا جس کے نامۂ اعمال کے ۹۹ رجسٹر پھیلائے جائیں گے اور ایک رجسٹر کی لمبائی تا حد نگاہ ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کیا تم ان گناہوں کا انکار کرتے ہو جو کچھ میرے فرشتوں نے نوٹ کیا؟ وہ بندہ کہے گا نہیں میرے پرور دگار، اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تمہارے پاس کوئی عذر اور نیکی ہے؟ تووہ شخص پریشاں ہوکر کہے گا: نہیں میرے رب،تو اللہ تعالیٰ فرمائے گاتمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،تو اس کا کارڈ نکالا جائے گاجس پر لکھا ہوگا’’أشہد أن لا الہٰ الا اللہ و أشہد انَّ محمدا عبدہ و رسولہ‘‘ کہا جائے گا اس شخص سے لاؤ اپنا کارڈ، وہ کہے گا: رب کائنات! یہ ایک کارڈ ۹۹ رجسٹروں کے مقابلے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اس سے کہا جائے گا : تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،ترازو میں تولا جائے گا، ایک پلڑے میں ۹۹ رجسٹر دوسرے میں صرف توحید کا ایک کارڈ ہوگا،اور آن کی آن میں رجسٹروں والا پلڑا ہلکا ہوجائے گا،اور توحید کا کارڈ بھاری پڑ جائے گا،اور اللہ کے نام کے ساتھ یقیناًکوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی۔(ترمذی، ابن حبان والحاکم)
محترم حضرات! رمضان کا یہ مقدس مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم شیطانی و دجالی بلکہ جہنمی کارڈوں کے حصول سے اپنے کو اور اہل وعیال کو بچالیں اور یہ تجدید عہد کریں کہ شریعت مطہرہ ہر چیز سے بالا تر ہے ، اللہ کا یہ دستور حیات کسی بھی حالت میں قابل تغیر نہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں جہنم اور اس سے قریب کردینے والی چیزوں سے محفوظ رکھ اور جنت کی راہ آسان بنادے۔(آمین) 

Sunday, 1 January 2012

رمضان کے انعامات

پینتیسواں پیغام
رمضان کے انعامات 
محترم حضرات!اللہ رب العزت نے رمضان کے طفیل میں اپنے روزہ دار مخلص بندوں کو ڈھیر سارے انعامات سے نوازنے کا وعدہ کیا ہے جن میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
۱۔e مغفرت کا انعام: اللہ تعالیٰ سورہ طہ آیت نمبر ۸۲ میں فرماتا ہے:’’ البتہ میں انہیں بخش دوں گا جنہوں نے توبہ کیا، ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ہدایت یاب رہے‘‘۔ حدیث میں آتا ہے:’’ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے:(بخاری،نسائی) معروف جلیل القدر صحابی ابو درداءؓ سے ان کی مرض الموت میں پوچھا گیا کو ن سی چیز آپ کو پریشان کررہی ہے، انہوں نے کہا: میرے گناہ، پھر پوچھا گیاآپکی خواہش کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اپنے پروردگار کی مغفرت۔(حلےۃ الأولیاء:۷۵۲) غور کیجئے جب صحابۂ کرام کو مغفرت کی فکر ستاتی تھی حالانکہ روزہ داروں کے لئے مغفرت کا انعام تیار ہے، لہٰذا اس انعام کو لینے کے لئے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور ماہ مکرم کا کوئی لمحہ خالی نہ جانے دیں۔
۲۔e شفاعت کا انعام: میدان حشر میں جب لوگ شدید مصیبت سے دوچار ہونگے اس وقت لوگوں کو شفاعت کی فکر لاحق ہوگی اور اخیر میں نبی ﷺ کو شفاعت کے لئے اجازت دی جائے گی اور اہل توحید کے لئے آپ ﷺ شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی شفاعت قبول فرماکر سب کو بخش دے گا،مسلمانوں کے نیک اعمال بھی بروز قیامت سفارشی بن کر آئیں گے جیسے روزہ اور قرآن بندے کے حق میں شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔
۳۔eرَیَّان( اسپیشل گیٹ) کا انعام:اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں:جنت میں’’ ریان‘‘ نام کا خصوصی گیٹ بنایا گیا ہے، جس میں روزہ داروں کے علاوہ کوئی دوسرا داخل نہ ہو سکے گا، پکارا جائے گا:روزہ داروکہاں ہو، آؤ اور اس دروازے سے داخل ہوجاؤ، ان کے داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کردیا جائے گا اور پھر کوئی داخل نہیں ہوسکے گا‘‘(بخاری)
۴۔ eخوشی اور جنت کا انعام: ابو ہریرہؓ کی روایت ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے’’ ابن آدم کا عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے، اسلئے کہ وہ روزہ میرے لئے رکھتا ہے اور میں ہی اسکا صلہ دوں گا‘‘ نبی ﷺ فرماتے ہیں: روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں، ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزوں پر خوشی کا اظہار کرے گا،(بخاری،مسلم) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان جنتیوں کو لائے گا جنہوں نے دنیا میں بڑی دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا مگر وہ صبر کرتے رہے، اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو جنت میں ایک غوطہ لگوا کر پوچھے گا کیا تمہیں کوئی پریشانی یا تکلیف ہے؟ بندے کہیں گے ،نہیں میرے رب، ہم نے کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی (مسلم)
۵۔e خوشنود ئ رب کا انعام: اللہ تعالیٰ مومن بندوں کو جنت میں داخل کرنے اور ساری نعمتیں دینے کے بعد ان سے پوچھے گا کیا تم اس سے راضی ہو؟ وہ جواب میں کہیں گے،کیوں نہیں تجھ سے راضی ہوں گے جبکہ تو نے ہمیں وہ عطا کیا ہے جو دوسروں کو نہیں ملا، اللہ تعالیٰ کہے گاکیا ان سب سے افضل چیز تمہیں نہ دے دوں؟ جنتی کہیں گے: اس سے افضل کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کہے گا، تم پر میری خوشنودی کا انعام ہے اور میں آج کے بعد تم پر کبھی بھی غضبناک نہیں ہوں گا(بخاری،مسلم)
۶۔e دیدار الٰہی کا انعام: اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم کچھ اور بھی چاہتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: میرے رب! تونے ہمارے چہروں کو منور کیا، جنت عطا کی اور جہنم سے نجات دی، اتنے میں حجاب کھل جائے گا اور وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس سے زیادہ محبوب چیز انہیں کہیں نہیں ملی ہوگی۔(مسلم)
دعا ہے کہ اللہ ہم تمام مسلمانوں کی بخشش فرماکر یہ انعامات عطا کردے (آمین)

روزہ کے احکام ومسائل (۳)


چھتیسواں پیغام
روزہ کے احکام ومسائل (۳) 
بلاعذر شرعی روزوں کی قضا میں تاخیر: رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء میں بلا عذر شرعی تاخیر درست نہیں ، کیونکہ یہ ایک قرض ہے اوراستطاعت کے باوجود اس کی ادائیگی اگلے رمضان کے آنے سے پہلے نہیں ہوتی ہے توایسے لوگ اللہ کے یہاں مجرم ہیں ، روزوں کی قضا جس قدر جلدی ہو، کرلینی چاہیے اور اگردوسرا رمضان آگیا اور قضانہیں کرسکے توایسے شخص پر توبہ، اور قضاء کے ساتھ ہرروزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا بھی واجب ہے۔ لیکن اگر کسی عذر کی بناء پر روزوں کی قضاء نہ کرسکا تواس پر صرف قضا واجب ہے ۔
تراویح میں قرآن ٹھرٹہر کر پڑھنا: تراویح میں عموما حفاظ کرام قرآن بہت تیزی سے اورجلدی جلدی پڑھتے ہیں اور یعلمون تعلمون کے سوا کچھ سمجھ میں نہیں آتا، یہ نہایت غلط بات ہے قرآن جن وانس کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، اس کے معانی ومطالب کو سمجھنا بھی عبادت ہے ، اس لئے قرآن کو ٹھہرٹھہر کر پڑھنے کا حکم دیا گیاہے، قرآن کو ترتیل کے ساتھ اورٹھہر ٹھہر کر پڑھئے (مزمل: ۴۰) ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایک آیت کو الگ الگ کرکے پڑھتے، الحمدللہ رب العالمین کہتے پھرٹھہرجاتے، پھر الرحمن الرحیم کہتے پھر ٹھہر جاتے (ترمذی) آپ ﷺ نے قرآن کو خوبصورت لہجے میں پڑھنے کاحکم دیا ہے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو (احمد) معلوم ہوا کہ تیزی سے قرآن کے پڑھنے میں اس کا مقصد فوت ہوجائے گا ، لہٰذا اطمینان کے ساتھ اور شیریں آواز میں قرآن پڑھنا چاہیے۔ 
تراویح میں نابالغ کی امامت: نابالغ بچے کی امامت درست ہے ، عمروبن سلمہؓ کی روایت ہے کہ جب میرے والد اسلام لائے توقوم میں آکر انہوں نے نماز کے احکام بیان کئے اور کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے جب نماز کا وقت آئے توتم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سے قرآن سب سے زیادہ یاد رکھنے والا ہووہ امامت کرے (بخاری) چنانچہ لوگوں نے دیکھا کہ مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ لوگوں نے مجھے امامت کے لئے آگے بڑھایا حالانکہ میں اس وقت چھ یا سات سال کا تھا اورمجھ پر ایک چھوٹی سی چادر تھی، میں جب سجدہ کرتا توچادر سترسے الگ ہوجاتی تھی اس پر قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: آپ لوگ اپنے امام کی شرمگاہ کو ڈھانکنے کے لئے انتظام کیوں نہیں کردیتے؟ معلوم ہوا امامت کے لئے بلوغت شرط نہیں۔
جمعۃ الوداع منانے کا حکم: قرآن وسنت میں جمعۃ الوداع کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، لوگو ں نے رواج بنایا ہے اس سے بچ کر زیادہ سے زیادہ وقت عبادت ، تلاوت، استغفار اور صدقہ وخیر ات میں صرف کرنا چاہیے۔
صدقۃ الفطر: عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھوٹے بڑے اور آزاد وغلام جن کے کھانے کے تم ذمہ دار ہو ان کی جانب سے صدقۃ الفطر نکالنے کا حکم دیا (بیہقی) ایک صاع تقریبا ڈھائی کلو صدقہ غلہ کی شکل میں نکالا جائے گا، یہ فقر اء ومساکین کا حق ہے، ان کے لئے کھانے کا انتظام ہے، تاکہ وہ عید کے روز ادھر ادھر چکر لگانے سے بچ جائیں۔ عیدکی نماز سے قبل اس کی ادائیگی ضروری ہے۔ (مستفاداز’’فتاوی رمضان‘‘: ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی حفظہ اللہ)

صلہ رحمی

سینتیسواں پیغام
صلہ رحمی 
محترم حضرات!رمضان کا یہ مقدس مہینہ ہمیں صلہ رحمی کی سخت تاکید کرتا ہے، آئیے صلہ رحمی کا مفہوم دیکھتے ہیں: اپنے اقرباء و رشتہ داروں کے ساتھ ہر طرح کی بھلائی و احسان کا معاملہ کرنا اور ان کی مصیبتوں کو دور کرنے میں مدد دینا اور قطع رحمی کہتے ہیں:اپنے اقرباء و اعزہ کے ساتھ زیادتی کرنا اور ان سے دوری برتنا۔ صلہ رحمی واجب ہے اور قطع رحمی گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہے۔
صلہ رحمی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور اللہ کی عبادت کرو، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو، رشتہ داروں کے ساتھ، یتیموں ،مسکینوں، قرابت دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں،پہلو کے ساتھی، مسافر اور غلام و کنیزوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، یقیناًاللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ (النساء ۳۶) ام المومنین عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ قرابت داری عرش سے معلق ہوکر کہتی ہے جس نے مجھ کو جوڑا اللہ اسے جوڑے رکھے، جس نے مجھ سے ناطہ توڑا اللہ اس سے تعلق ختم کرلے:(بخاری، مسلم)
’’ارحام‘‘ یعنی قرابت داروں میں آپ کی اولاد، اولاد کی اولاد،باپ کی اولاد،دادا کی اولاد،چچا ،خالہ، پھوپھی اور ان کی اولادیں شامل ہیں جن کے ساتھ صلہ رحمی ہونی چاہئے، صلہ رحمی کے مستحق قریب میں رہنے والے اقرباء زیادہ ہیں دور رہنے والوں کی بہ نسبت۔ صلہ رحمی کن چیزوں کے ذریعہ ہو سکتی ہے: دیکھئے (۱)ایک دوسرے کے گھروں کی زیارت (۲) دعوت لینا و میزبانی کا شرف حاصل کرنا (۳) ملاقات کے وقت یا ٹیلی فون کے ذریعے ایک دوسرے کی مزاج پرسی اور حالات معلوم کرنا نیز سلام کہتے رہنا(۴) باہمی احترام(۵) خوشی اور غمی کے مواقع پر شرکت (۶) مریضوں کی عیادت اور جنازوں میں شرکت(۷) غریب رشتہ دار پر مالی صدقہ کرنا دوہرا اجر ہے(۸) ایک دوسرے کی آواز پر لبیک کہنا اور عذر و بہانہ سے دور رہنا(۹) دلوں کو کینہ کپٹ سے سلامت رکھنا(۱۰) ایک دوسرے کے لئے دعائے خیر کرتے رہنا۔
در حقیقت صلہ رحمی یہ ہے جو کٹے ہوئے ہوں ان کو جوڑا جائے، اور یہ صلہ رحمی انسان کے جنت میں داخلے کی راہ ہموار کرتی ہے: اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں:’’لوگو !سلام پھیلاؤ، بھوکوں کو کھلاؤ، قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو اور رات میں نمازیں پڑھو جب لوگ سورہے ہوں، ایسا کرنے پر جنت میں بآسانی داخل ہوجاؤگے: (ترمذی،و صححہ الالبانی) جو لوگ قطع رحمی کا ارتکاب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہی سزادے دیتا ہے، اُن کا کوئی پر سان حال نظر نہیں آتا اور وہ گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیتے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ تقریبات کے مواقع پر اپنے رشتہ داروں کو ہرگز نہ بھولیں، میراث کی تقسیم جلدی ہو، اپنے بچوں کو رشتہ داروں سے متعارف کرایا جائے، ماہانہ خاندانی نشستیں ہوں، ایک دوسرے کی سر زنش سے بچا جائے اور باہمی بے تکلفی ہو، اگر ان طریقوں کو ہم نے اپنالیا تو ان شاء اللہ قطع رحمی دم توڑ جائے گی، شیطان رسوا ہوجائے گا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر موڑ پر صلہ رحمی کی توفیق دے اور قطع رحمی سے بچائے۔ (آمین)