Sunday, 8 January 2012

زکاۃ کی فضیلت اورنہ دینے والوں کے لئے وعید

چوبیسواں پیغام
زکاۃ کی فضیلت اورنہ دینے والوں کے لئے وعید
محترم حضرات! زکاۃ وہ فریضہ ہے جس کے بارے میں بہت سارے مسلمان تساہلی کا شکار ہیں اور صحیح طریقے سے اس کو نہیں نکالتے جبکہ اس کا مرتبہ بڑاہی بلند ہے اور ارکان اسلام میں داخل ہے ،جس کے بغیر اسلام کی بنیاد استوار نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ محمد ﷺ نے فرمایا ’’اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے ۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکاۃ ادا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا، اور بیت اللہ کا حج کرنا ‘‘۔(متفق علیہ)
مسلمانوں پر زکاۃ کی فرضیت اسلام کی بہترین خوبیوں کا اظہار ہے اور سماجی امور کی خبر گیری و دیکھ بھال ہے ۔ اس کے فوائد بکثرت ہیں اور غریب مسلمانوں کی حاجتوں کا مداوا ہے ۔ ان فوائد میں سے پہلا فائدہ غریبوں اور مالداروں کے درمیان چاہت و محبت کے رشتہ کو استوار کرنا ہے کیونکہ انسان کا نفس اپنے محسن سے محبت کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے ۔انہی فوائد میں سے دوسرا فائدہ نفس کی طہارت و تزکیہ، اور بخیلی و طمع جیسی خصلتوں سے دوری، جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے’’آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں‘‘۔(التوبہ:۱۰۳)
تیسرا فائدہ مسلمان کے اندر سخاوت و فیاضی کی صفت پیدا ہو اور محتاجوں پر لطف و کرم کرنے کی عادت ہو جائے۔جس کا فائدہ اللہ کی جانب سے کثرت و برکت کا ہونا جیساکہ اس کا فرمان ہے’’کہہ دیجئے !کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گااور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘۔(سبا:۳۹)بخاری و مسلم کی روایت میں نبی ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے:کہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :’’اے ابن آدم !خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جاے گا ‘‘ اسی طرح اور بھی بے شمار فوائد موجود ہیں۔
اور جو اس کے نکالنے میں کوتاہی کرے یا بخیلی سے کام لے اس کے بارے میں بڑی ہی سخت وعید آئی ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے ، جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا ،پھر اس سے ان کی پیشانیاں ،پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا ) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘ ۔ (التوبہ:۳۴۔۳۵)
لہذا ہر وہ مال جس کی زکاۃ نہ نکالی گئی وہ خزانہ (کنز ) میں شمار ہے جس کے ذریعہ روز قیامت اس صاحب زکاۃ کو عذاب دیا جائے گا جیساکہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو کوئی سونے اور چاندی والا (صاحب نصاب ) اس کا حق (زکاۃ ) نہ نکالے قیامت کے دن اس کے لئے آگ کی تختیاں بچھائی جائیں گی اور جہنم کی آگ میں اس کو اس پر تپایا جائے گا، اس کی پیشانی ، پہلو اور پیٹھ داغی جائے گی ۔ اور جب بھی یہ ٹھنڈی ہونے لگے گی پھر سے تپائی جائے گی اس دن جو پچاس ہزار سال کے برابر کا دن ہوگا، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے، پھر وہ اپنی راہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھے گا‘‘۔(مسلم)
پھر رسول اللہ ﷺ نے اونٹ ، گائے اور بھیڑ والوں (جو زکاۃ ادا نہ کرے ) کا ذکر فرمایا اور بتلا یا کہ ان جانوروں کے ذریعے بروزقیامت اس کو عذاب دیا جائے گا۔چنانچہ صحیح بخاری میں آپ سے روایت منقول ہے کہ آپﷺ نے فرمایا :
’’جس کو اللہ نے مال عطا کیا پھر اس نے زکاۃ ادا نہ کی تو اس کا مال اس کے لئے ایک زہریلے اژدھے کی شکل میں بنادیا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ دھبے ہوں گے ،اس کا طوق قیامت کے دن اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا ،پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑکر کہے گا (میں تیرا مال ہوں، تیرا خزانہ ہوں)پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے)‘‘(آل عمران :۱۸۰)
اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو پابندی کے ساتھ زکاۃ ادا کرنے کی توفیق سے نوازے(آمین)

زکاۃکن چیزو ں میں اور کتنا واجب ہے

پچیسواں پیغام
زکاۃکن چیزو ں میں اور کتنا واجب ہے

محترم حضرات!زمین سے پیدا ہونے والا غلہ اور میوہ، قدرتی چراگاہوں میں چرنے والے چوپائے، سونا اور چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ واجب ہے۔ان چاروں اقسام میں مقررہ نصاب ہے جس سے کم پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی ۔ غلہ و میوہ کا نصاب پانچ وسق ہے، اور ایک وسق کی مقدار ساٹھ صاع ہے ۔ لہذا کھجور ، منقہ ، گیہوں، چاول ، جو، وغیرہ کا نصاب رسول اللہ ﷺ کے صاع کے برابر تین سو صاع ہے( ایک صاع تقریباً ڈھائی کلو کی مقدار کے برابر ہے اس طرح تین سو صاع کی مقدار تقریباً ساڑھے سات سو کلو ہے جو غلہ و میوہ کا نصاب ہے)۔
اگر درخت اور کھیتی کی سیرابی کے لئے خرچ کی ضرورت پیش نہ آئے، جیسے بارش ، نہر یا بہتی ندی کے ذریعہ سیرابی ہوگئی تو اس سے پیدا شدہ غلہ کا دسواں حصہ بطور زکاۃ نکالنا ہوگی ۔اور اگر اس کی سیرابی کے لئے خرچ کی ضرورت پیش آئے جیسے پن چکی اور بورویلوں وغیرہ کے ذریعہ تو ایسی پیداوار کا بیسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرنا ہوگی۔ 
چاندی کا نصاب ایک سو چالیس مثقال ہے اورسونے کا نصاب بیس مثقال ہے۔محققین نے ایک مثقال کی مقدار سوا چار گرام بتلائی ہے جس کے اعتبار سے بیس مثقال سونے کی مقدار ۸۵ گرام ہے جو سونے کا نصاب ہے اور ایک سو چالیں مثقال چاندی کی مقدار ۵۹۵ گرام ہے جو چاندی کا نصاب ہے۔سونا اور چاندی میں جو بھی نصاب کا مالک بن جائے اس پر چالیسواں حصہ کی زکاۃ فرض ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کی ملکیت پر ایک سال گزرجائے۔
سونے اور چاندی ہی کے حکم میں نقدی (کرنسی) ہے جن کو آج کے دور میں لوگ استعمال کرتے ہیں چاہے وہ ریال ہوں یاروپئے ہوں، ڈالر ہوں یا کچھ اور نام رکھ لیا گیا ہو،جب ان کی قیمت چاندی یا سونے کے نصاب کو پہنچ جائے اور اس کی ملکیت پر سال گزر جائے تو ان میں زکاۃ واجب ہو جائے گی۔
نقدی ہی کے حکم میں خواتین کے زیورات بھی ہیں اگر وہ سونے یا چاندی کے ہوں اس شرط کے ساتھ کہ وہ نصاب کو پہنچ جائیں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر زکاۃ واجب ہوگی اگر چہ وہ استعمال کی خاطر ہوں۔یہی علماء کا صحیح ترین قول ہے کیو نکہ رسول اللہ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے ایک خاتون کے ہاتھ میں دو کنگن دیکھے توآپ نے دریا فت فرمایا : کیا ان کی زکاۃ اداکرتی ہو؟ اس نے کہا : نہیں توآپ نے فرمایا ’’کیا تمہیں اس بات سے خوشی ہوگی کہ ان دونوں کنگن کے بدلہ اللہ تمہیں قیامت کے دن آگ کے کنگن پہنائے؟ تو ان دونوں کو اس نے نکال کر ڈال دیا اور کہا :یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں ۔(ابوداؤداور نسائی نے سند حسن سے اس کو بیان کیا ہے)
اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ثبوت ملتاہے کہ آپ سونے کی پازیب پہنتی تھیں چنانچہ آپ نے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا یہ ’’کنز ‘‘خزانہ میں شمار ہے تو آپ نے فرمایا ’’جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچ جائے ، پھر اس کی زکاۃ ادا کردی جائے تو وہ کنز (خزانہ ) میں شمار نہیں‘‘۔(ابوداؤد) اسی معنی کے دوسری احادیث بھی آئی ہیں۔
سامان تجارت سے مراد وہ مال جو تجارت کی غرض سے رکھا گیا ہو لہذا سال کے اختتام میں اس کی قیمت کا حساب لگایا جائے اور اس کی پوری قیمت کا ڈھائی فیصد بطور زکاۃ ادا کیا جائے چاہے اس کی قیمت اس کے دام سے زیادہ ہو یا کم ، کیونکہ سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں مال تجارت میں سے زکاۃ نکالنے کا حکم فرماتے تھے ۔(ابوداؤد)
اس ضمن میں فروخت کی غرض سے رکھی ہوئی زمینیں ، عمارتیں ، گاڑیاں ، پانی کے موٹر پمپ اور وہ اشیاء داخل ہوجاتی ہیں جن کو فروخت کرنے کے لئے رکھا جائے ، البتہ وہ عمارتیں جو کرائے پر دی گئی ہوں اور بیچنے کے لئے نہ ہوں تو اس کے کرایہ میں ایک سال گزرنے پر زکاۃ واجب ہو گی، اگر ذاتی مکان ہو تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں کیونکہ وہ مال تجارت میں شامل نہیں ۔اسی طرح شخصی گاڑیوں پر بھی زکاۃ نہیں اس لئے کہ ان کو خرید نے والے نے اپنے ذاتی استعمال کے لئے خریداہے ۔ اگر کرائے پر دی ہوئی گاڑی کے مالک کے پاس کرائے یا کسی اور ذریعہ سے اتنے پیسے جمع ہو جائیں جو نصاب کو پہنچ جائیں تو ایک سال گزر نے پر اس میں زکاۃ واجب ہوجائے گی چاہے وہ خرچ کے لئے اٹھا رکھا ہو ، شادی کے لئے جمع کررکھا ہو یا کوئی زمین کے خرید نے کی نیت ہو یا قرض کی ادائیگی کا ارادہ ہو یا کوئی اور مقصد ہو ۔ شریعت کی عمومی دلیلیں ایسی صورت حال میں زکاۃ کے واجب ہونے کو بتلاتی ہیں ۔ اور علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق قرض زکاۃ کو مانع نہیں ہے ۔
اسی طرح جمہور علماء کے پاس یتیموں اور پاگلوں کے مال میں بھی زکاۃ واجب ہے اگر اس پر سال مکمل ہوجائے ۔ان کے ذمہ دار حضرات پر ضروری ہے کہ سال کی تکمیل پر ان کے مال کی زکاۃ نکالیں ۔اس کی دلیل وہ عام احادیث ہیں جو اس ضمن میں آتی ہیں جس طرح معاذ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ان کو یمن کی طرف بھیجنے لگے تو فرمایا’’ یقیناًاللہ نے ان کے مالوں میں زکاۃ کو فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے اور ان کے غریبوں کو دی جائے‘‘۔(متفق علیہ)
زکاۃ اللہ کا حق ہے ، جو اس کے مستحق نہیں ہیں ان کو یہ دینا جائز نہیں ، مسلمان پر واجب ہے کہ اس کے مستحقین تک اس کو پہنچا دے کیونکہ وہی اس کے حق دار ہیں ۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں زکاۃ کے مستحقین کو بیان فرمادیا چنانچہ اس کا فرمان ہے ’’صدقہ صرف فقیروں کے لئے ہے اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پر چائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راہ میں اورمسافروں کے لئے ۔ فرض ہے اللہ کی طرف سے وہ اللہ علم و حکمت والا ہے ‘‘ (التوبہ:۶۰)
اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور معاملات میں راست بازی کی توفیق دے(آمین)

تمباکو،گٹکا اور سگریٹ چھوڑنے کا بہترین موقع

چھبیسواں پیغام
تمباکو،گٹکا اور سگریٹ چھوڑنے کا بہترین موقع

محترم حضرات! سولہویں صدی عیسوی کے قبل لوگ تمباکو سے ناواقف تھے ، سب سے پہلے براعظم امریکہ کے ملک میکسیکو کے علاقہ تباگو میں پایا گیا، اس مناسبت سے اس کا نام تمباکو پڑگیا، ہم سب جانتے ہیں کہ تمباکو نشہ آور یا کم از کم دل و دماغ میں فتور پیدا کرنے والی چیز ہے، تمباکو اور اس سے متعلق دوسری مصنوعات جیسے گٹکا،سگریٹ اور کھینی نے پورے عالم انسانیت کو ہلاکت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ انسانی معاشرے اس خطرناک و باء کا شکار ہورہے ہیں، عالمی ادارۂ صحت( اقوام متحدہ) کے مطابق ۲۰۲۰ء ؁ میں صرف تمباکو سے مرنے والوں کی سالانہ تعداد ایک کروڑ ہوجائے گی جو ابھی۷۰؍لاکھ سالانہ ہے، اس چونکانے والی رپورٹ کے باوجود تمباکو نوشوں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے، تمباکو سے بنی نشہ آور گولیوں کا استعمال نئی نسل کے دل و دماغ کو کاری ضرب پہونچا رہا ہے۔
روزہ دارو! اگر ہم تمباکو نوشوں سے سوال کریں کہ آپ کیوں سگریٹ پیتے ہیں، کیوں گٹکا یا کھینی کھاتے ہیں ؟ تو لوگوں کے جواب بھی مختلف ہوتے ہیں کوئی کہتا ہے اہل و عیال سے دوری کے سبب دل کو تسلی دینے کیلئے یہ عمل کرتاہوں،کوئی کہتا ہے جب سینہ بوجھل ہوتا ہے تو سگریٹ کے کش راحت پہونچاتے ہیں، کوئی کہتا ہے فلاں پیر یا شخصیت سے مثاثر ہوکر سگریٹ پیتا ہوں،تو اس میں کوئی عیب و حرمت نہیں ہونی چاہئے؟
مسلمانو! تمباکو کے حرام ہونے میں ہمیں کوئی شبہ نہیں کرنا چاہئے اللہ کا یہ فرمان دیکھئے:(وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الخَبَاءِثَ) (الاعراف:۱۵۷)
دوسری جگہ پر ارشاد فرمایا: اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، اللہ تمہارے ساتھ رحم کا معاملہ کرے گا(النساء:۲۹) یہ ثابت ہوچکا ہے کہ تمباکو صحت کے لئے زہرہلاہل اور حرام بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہر نشہ آور اورفتور پیدا کرنے والی چیز سے روکا ہے(ابو داؤد)تیسری جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کھاؤ اور پؤ لیکن اسراف نہ کرو اللہ فضول خرچ کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا ہے(الاعراف:۳۱) تمباکو جیسی حرام چیز میں انسان اپنی حلال کمائی لگائے،تف ہے، اس کے لئے جائز نہیں کہ حلال رزق سے زہریلا سامان خریدے۔
بھائیو! تمباکو کے بے شمار نقصانات ہیں جیسے لوگوں کا تمباکو نوشوں سے دور بھاگنا،جنسی کمزوری، قطع رحمی، امت کی رسوائی، عمر میں کمی، سعادت سے محرومی، عقل و فکر میں کجی، کثرت امراض، اور کینسر جیسی مہلک بیماری لیکر آتا ہے تمباکو۔
مسلمانو! رمضان کا یہ مہینہ تمباکو نوشوں کو بہترین موقع عطا کررہا ہے کہ وہ تمباکو کی حرمت کو سمجھیں ،اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے توبہ کریں اور اپنے معاشرے سے ، گھر سے تمباکو کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کا عہد کریں، اللہ ایسے بندوں پر مہربان ہے اور توبہ کرنے والوں کو بے پناہ اجرو ثواب سے نوازتا ہے، اپنا محبوب بندہ بناکر اس کے دل کو سکون عطا کرتا ہے۔ پھر وہ سچی عزیمت اور طاقتور ارادے کا مالک بن جاتا ہے۔
اللہ سے دعاء ہے کہ ہم سب کو یہ توفیق دے کہ اپنے سماج اور خاندان سے تمباکو کو نکال باہر کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ اسلام کی سچی تصویر بن جائے۔

اعتکاف اور اس کے آداب

ستائیسواں پیغام
اعتکاف اور اس کے آداب
محترم حضرات! اعتکاف نام ہے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے مخصوص صفات کے ساتھ مسجد کو لازم پکڑلینا۔ اعتکاف ایک نفلی عبادت ہے جو کسی وقت بھی انجام دی جاسکتی ہے، اسکی کوئی حد یا مدت نہیں ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت کے ساتھ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف بیٹھتے تھے۔(بخاری، مسلم)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اعتکاف کا مقصد بیان کرتے ہیں: کہ دل کے سارے گوشے، تمام نہاں خانے اللہ کی رضا اور اس کی خلوت کے لئے یکجا ہو جائیں، معتکف، اعتکاف کے دوران مستقل اللہ کی مرضی اور قربت تلاش رہا ہوتا ہے، اللہ کو اپنا مونس بنا لیتا ہے، سارا تعلق صرف اللہ سے ہو جاتا ہے،معتکف اس دن کی تیاری کر رہا ہوتا ہے جس روز قبر کی وحشت میں اللہ کے سوا کوئی مونس نہ ہوگا، اور یہ انسیت پانے کے بعد بندہ پھولے نہیں سمائے گا، یہی اعتکاف کا اصل مقصد ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اعتکاف کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ معتکف مریض کی عیادت کونہ جائے، نہ جنازہ میں شریک ہواور نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس سے مباشرت کرے، نہ ہی کسی عام حاجت کے لئے نکلے، البتہ اگر ضروری ہو تو وہ اس کے لئے نکل سکتا ہے(ابو داؤد)
اگر اعتکاف بیٹھنے والا شخص شرط کے ساتھ بیٹھے کہ اگر فلاں کا انتقال ہو گیا تو اسکے جنازے میں شریک ہوگا، تو ایسا وہ کرسکتا ہے، اس کے اعتکاف میں خلل نہ ہوگا، اعتکاف کسی بھی مسجد میں بیٹھا جا سکتا ہے، محلے کی مسجد کو ترجیح دینی چاہئے، خواتین بھی مسجدوں میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں، جہاں ان کے لئے علیٰحدہ انتظام ہو، شادی شدہ خاتون کے لئے شوہر کی اجازت ضروری ہوگی۔
آئیے اعتکاف کے کچھ آداب ملاحظہ کریں جن سے اعتکاف کامل اور مقبول ہوتا ہے۔(۱)نیک نیتی کے ساتھ اعتکاف بیٹھنا (۲) سارا تعلق صرف اللہ سے جوڑ لینا اور اپنے دل کویکسو کرلینا(۳)معتکف کو چاہئے کہ وہ سنت مؤکدہ، چاشت کی نماز،تہجد کی نماز، وضوکی سنت،صبح و شام کی دعائیں، نماز کے بعد کی دعائیں و اذکار اور اذان کے جواب کا پابندی سے اہتمام کرے۔(۴) سکون و وقار اور خشوع و خضوع کیلے معتکف نماز کے اوقات سے پہلے اٹھ کر اپنے کو تیار کرلے۔(۵) نوافل خوب پڑھے، نیز کئی طرح کی عبادتوں کو باری باری انجام دیتا رہے، جیسے تلاوت قرآن،تسبیح وتہلیل، تحمید وتکبیر، دعاء واستغفار، درود شریف وغیرہ(۶) قرآن کی تفسیر کی پڑھے اور اس میں غور و فکر کرے۔(۷) باتیں کم ہو اور کھانا بھی کم ہو، اسلئے کہ یہ رقت قلب اور خشوع نفس کا سبب ہے۔(۸) وضو کا برابر اہتمام ہو(۹) اگر مسجد میں کئی معتکف ہیں تو باہم ایک دوسرے کو نصیحت، صبر اور حق کی وصیت کرتے رہنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اعتکاف کی توفیق بخشے اور انہیں سنت کا متبع بنائے۔

روزہ کے احکام ومسائل (۲

اٹھائیسواں پیغام
روزہ کے احکام ومسائل (۲
افطار پارٹی کاحکم: اگرروزہ داروں کو اخلاص اور اجروثواب کی نیت سے افطار کرایا جائے تویہ بڑے اجروثواب کا کام ہے۔ حضرت زید بن خالدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا یا کسی غازی کو سامان جہاد دیکر تیار کیا، اس کواسی کے مثل اجر ملے گا (بیہقی)
افطار کرانے کی شکل انفرادی ہو یا ا جتماعی، خواہ مسجد میں افطار کا سامان بھیج کر ہو یا روزہ داروں کے گھر، اگر خلوص شامل ہے تونہایت بابرکت اور قابل ثواب عمل ہے۔ لیکن اگر مقصد ریاء ونمود ہے ، بے نمازیوں ، روزہ خور نیتاؤں اور غیر مسلم لیڈروں کی دعوت افطار کی جو رسم چل پڑی ہے وہ بظاہر سیاسی قسم کی دعوت ہوتی ہے اور اس فضیلت والے افطار سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بام اور وکس کا استعمال: سردی یازکام میں بام او روکس کے سونگھنے سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا یہ خوشبو کی مانند ہے جس سے دل ودماغ کو سکون ملتا ہے۔
روزہ کی حالت میں خون بدلنا (ڈایلیسس): روزہ کی حالت میں گر دہ کے مریض کا خون بدلوانے (ڈایلیسس) سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور وہ روزہ قضاء کرے گا کیونکہ نیا خون اس کے لئے غذا کے قائم مقام ہے۔
جنبی کا صبح صادق کے بعد غسل کرنا: اگرکوئی جنبی اذان فجرتک غسل نہ کرسکا تواس سے اس کے روزے پر اثر نہیں پڑے گا ۔ حضرت عائشہؓ اور ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض بیویوں سے ہم بستری کی وجہ سے جنبی ہوتے اورصبح صادق ہوجانے کے بعد غسل فرماتے او رروزہ رکھتے (بخاری ومسلم) لیکن غسل میں اتنی تاخیر نہ ہو جس سے نماز فجر فوت ہوجائے۔
زبردستی کوئی روزہ ختم کرادے اُس روزہ کا حکم: اگرشیطان صفت لوگوں نے کسی کو لٹا کر یادھمکی دیکر روزہ دار کو کھلا پلادیا ہو، ایسی صورت میں اس کا روزہ صحیح ہوگا ، اس پر نہ قضاء ہے اور نہ ہی کفارہ، وہ مرفوع القلم میں شمار ہوگا، رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے : اللہ نے میری امت سے خطاء، نسیان اور جس پر اسے مجبورکیا گیاہو، وہ معاف کردیا ہے۔ (ابن ماجہ)
روزہ اور قضاء کی طاقت نہ رکھنے والے کا کفارہ: رمضان کے روزے نہ رکھ سکنے والا اگر قضاء کی بھی قدرت نہ رکھے تووہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا حضرت انسؓ ایک سال کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے ، توانہوں نے ثرید کی ایک لگن تیار کی اور تیس مسکینوں کو بلاکر پیٹ بھر کھلادیا ۔ اگر بوڑھا یا بیمار آدمی کھلانے کی بجائے غلہ دینا چاہیے تواس کی کوئی حد وار د نہیں ہے ، آپ جس کو فدیہ دے رہے ہیں، اس کو اتنا غلہ دیں کہ ایک وقت پیٹ بھر کر کھالے، مگربہتر ہے کہ پکاکر کھلایا جائے ۔
(مستفاداز فتاوی رمضان ۔ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی حفظہ اللہ)

ہزار مہینوں سے بہتر...

انتیسواں پیغام
ہزار مہینوں سے بہتر...

محترم حضرات!رمضان کریم کا آخری عشرہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ برکتوں اور انعامات کی وجہ سے تمام ایام پر فوقیت لے گیا ہے، آخری عشرہ کی پانچ طاق راتوں میں کوئی رات قدر والی ہوتی ہے، جس کی فضیلت و اہمیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت نازل فرمائی جس کا نام ’’قدر‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے (قرآن مجید کو)شبِ قدر میں نازل کیا، یہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس رات فرشتے اور جبرئیل علیہم السلام اللہ کی اجازت سے ہر حکم لے کر نازل ہوتے ہیں، اور فجر کے طلوع ہونے تک( بندوں پر) سلامتی بھیجتے رہتے ہیں۔
ذرا دیکھئے کہ شب قدر کو ہزار راتوں سے بہتر قرار دیا گیاہے، انسان اگر اس رات کو پالے تو ۸۳ سال اور چار مہنے میں کی جانے والی عبادتوں سے زیادہ ثواب پائے گا۔ قرآن کریم کا نزول اس رات میں ہوا ،اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے شب قدر میں ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ عبادت کی، اسکے پچھلے گناہ بخش دئے جائینگے۔(بخاری،مسلم)
صحابۂ کرام کا معمول تھا کہ آخری پانچ طاق راتوں (یعنی ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،۲۹ویں) کو جاگتے،عبادت کرتے، کثرت کے ساتھ تلاوت کرتے، نوافل کا اہتمام کرتے، ہر طرح کے لغو کام سے محفوظ رہتے اور اللہ کے نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی یہ دعا خوب پڑھتے ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘ اے اللہ تو بہت معاف کرنے والاہے اور عفو کو پسند کرتا ہے تو مجھے بخش دے(احمد، ترمذی)
مذکورہ راتوں میں واعظین اور شعراء کو دور رہنا چاہئے،نیز چائے خانوں میں بیٹھ کر بکواس اور بیہودگی سے پرہیز کرکے محض اللہ کی عبادت میں یہ راتیں صرف ہونی چاہئیں۔
یہ وقت نہایت قیمتی ہے، یہ موقع نہایت سنہرا ہے، پتہ نہیں آپ کو آئندہ نصیب ہو کہ نہ ہو، اسلئے میرے بھائیو! جو موقع آپ کو ملا ہے اسکو غنیمت جانئے، رسول اللہ ﷺ کا عمل دیکھئے’’ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو اس کی راتوں میں بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو جگاتے اور جدوجہد کرتے نیز کمر کس لیتے‘‘(بخاری،مسلم)
معلوم ہوا کہ شب قدر کو لمبا قیام کرنا چاہئے، اگر پوری رات نہ جاگ سکیں تو آدھی سے زیادہ رات ہر حال میں جاگنی چاہئے، قیام سے مراد نوافل، تلاوت قرآن اور اذکار و دعا میں مصروف رہنا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اطاعت و عبادت کے لئے کمر کس لینے کی توفیق دے،اور شب قدر جیسی انمول رات نصیب کرے ۔

Saturday, 7 January 2012

درود شریف کی فضیلت

تیسواں پیغام
درود شریف کی فضیلت 
محترم حضرات!درود شریف (یعنی نبی ﷺ پر اللہ کی سلامتی بھیجنا)کی ہماری زندگی میں بہت اہمیت ہے، اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور حکم بھی دیتا ہے کہ زمین و آسمان والے محمد ﷺ پر درود و سلام بھیجیں، ارشاد ربانی ہے: بے شک اللہ اور اسکے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو مسلمانو! تم بھی نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجو‘‘(الاحزاب:۵۶) امام بخاری ؒ اپنے استاذ ابوالعالیہ ؒ سے نقل کرتے ہیں: اللہ کے درود سے مراد ہے: اللہ کا فرشتوں کے بیچ نبیﷺ کی ثنا بیان کرنا: اور فرشتوں کے درود سے مراد نبی ﷺ کے لئے دعا کرنا ہے (تفسیر ابن کثیر ۳؍۵۰۶)
نبی آخر الزماں پر درود و سلام کا بھیجنانہایت نفع بخش سودا ہے: نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے مجھ پر ایک بار درود و سلام بھیجا اللہ اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجتا ہے(مسلم)
میرے بھائیو! قیامت کے دن جب نفسی نفسی کا عالم ہوگا تو نبی ﷺ کو اُن امتیوں کے لئے شفاعت کا حکم دیا جائے گا جو آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے رہتے تھے، آئیے شفاعت نبوی کا حقدار بنئے۔ ارشاد رسول اکرم دیکھئے: جس نے اذان سنی پھر یہ دعا پڑھی: اللّٰہم ربَّ ہٰذہ الدعوۃ التامۃِ والصلاۃ القائمۃ آتِ محمداً الوسیلۃَ وَالفضیلۃ وَابْعَثْہُ مَقاماً محموداً الذی وَعَدتَہُ،تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگئی۔(بخاری) ترمذی کی روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ قریب مجھ سے وہ لوگ ہونگے جو مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجتے ہیں:خلیفۂ دوم عمر بن خطابؓ کہتے ہیں: دعائیں اس وقت تک آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہیں جب تک نبی اکرم پر درود نہ بھیجا جائے(ابن کثیر ۳؍۵۱۴)
نبی ﷺ پر درود نہ بھیجنے والو! خبر دار! آپ پرجبرئیل امین اور نبی ﷺ کی بد دعا لگ جائے گی، کعب بن عجرہؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: منبر حاضر کرو: منبر لایا گیا، آپ ﷺ تینوں سیڑھیوں پر چڑھتے گئے اور آمین کہتے گئے، جب آپ خطبہ سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا کہ آج پہلی بار آپ ﷺ کو منبر پر آمین کہتے ہوئے سنا ہے، تو آپ نے تفصیل بیان کی: میں جب پہلی سیڑھی پر تھا تو جبرئیل آئے اور کہا: وہ شخص اللہ کی رحمت سے دور ہو جو رمضان پائے اور اپنی بخشش نہ کرا سکے تو میں نے کہا آمین، دوسری سیڑھی پر جبرئیل نے کہا وہ بھی اللہ کی رحمت سے دور ہو کہ جب آپ ﷺ کا نام لیا جائے تو سننے والے درود نہ بھیجیں تو میں نے کہا آمین،تیسری سیڑھی پر جبرئیل نے کہا وہ شخص بھی اللہ کی رحمت سے دور ہو جس نے اپنے بوڑھے والدین یا کسی ایک کو پایا اور انکی خدمت کرکے جنت کا مستحق نہ بن سکا، تو میں نے کہا آمین (رواہ ا لحاکم)
کسی مجلس میں اگر نبی ﷺ پر درود نہ بھیجا جائے تو وہ بے برکت ہو کر رہ جاتی ہے، ہم اتنے بھی بخیل نہ ہوجائیں کہ اللہ کے نبی ﷺ کا ذکر آئے اور ہمارے ہونٹ ’’ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے لئے نہ ہل سکیں، بد نصیبی ہوگی کہ ہم درود شریف کے اجر و ثواب سے اپنے کو محروم کرلیں جبکہ اللہ کے فرشتے پوری زمین میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور امت محمدیہ کا سلام آپﷺ تک پہونچا تے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت کے ساتھ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا عادی بنادے۔(آمین)